Friday, April 17, 2009

پاکستان کے دیگر علاقوں پر بھی ڈرون حملوں پر غور؟

پاکستان کے دیگر علاقوں پر بھی ڈرون حملوں پر غور؟
اوباما انتظامیہ قبائیلی علاقوں کے بعد اب ڈرون حملوں کاسلسلہ بلوچستان کے بعض علاقوں تک پھیلانے پر غور کررہی ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق وائٹ ہاؤس کو ملنے والی دو خفیہ رپورٹس میں امریکی حکام سے کہا گیا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کی سرگرمیاں بلوچستان کے بعض علاقوں میں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں اس لئے طالبان اور القاعدہ کے ان مشتبہ ٹھکانوں پر جاسوس طیاروں سے حملے ضروری ہیں۔امریکی انتظامیہ اس وقت پاکستان اور افغانستان کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی کر رہی ہے اس لئے اس سلسلے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔۔ اخبار کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسیوں کے بعض اہلکار اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ملا عمر اور ان کے ساتھیوں کی سرگرمیاں کوئٹہ کے ارد گرد کے علاقوں میں بہت بڑھ گئی ہیں جو مستقبل میں امریکیوں کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کرسکتی ہیں۔دوسری طرف کانگریس کے15 اراکین نے صدر اوباما کو ایک خط کے ذریعے یہ مشورہ دیا ہے کہ افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور خطے میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مفاہمت کی راہ اختیار کریں۔گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں موجود پاکستانی اور افغان اہلکاروں نے بھی مفاہمتی پالیسی اختیار کر نے کا مشورہ دیا تھا ۔وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بلوچستان میں طالبان کی سرگرمیوں کے حوالے سے کئی آپشنز پر غور کیا جارہاہے جس میں جاسوس طیاروں کے حملے بھی شامل ہیں تاہم اس سلسلے میں حتمی فیصلہ پاکستان اور افغانستان کے متعلق امریکی پالیسی پر نظر ثانی کے بعد ہی ہوگا ،تاہم اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتاکہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے متعلق ٹھوس اطلاعات کے بعد ایک جاسوس طیاروں کے بلوچستان میں حملوں کے واقعات ہوں۔

0 comments:

Post a Comment